نئی دہلی،06/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو لوک سبھا میں کہا کہ نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ کو نہ تو حراست میں لیا گیا ہے اور نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے، وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر پر ہیں۔وزیر داخلہ کا یہ تبصرہ ایوان میں این سی پی کی سپریاشولے کی طرف سے فاروق عبداللہ کے ایوان میں موجود نہ ہونے کا ذکرکیے جانے پرآیا۔سپریا سلے نے ایوان میں اپنی سیٹ کے پاس والی سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج فاروق ایوان میں نہیں ہیں، ان کی آواز نہیں سنی جا سکی۔اس پر وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ وہ نہ تو حراست میں ہیں اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے، وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر پر ہیں۔جب سلے نے کہا کہ ہو سکتا ہے نیشنل کانفرنس لیڈر بیمار ہوں۔اس پرامت شاہ نے کہاہے کہ اس کے بارے میں ڈاکٹر بتا سکتے ہیں۔میں علاج نہیں کر سکتا یہ ڈاکٹروں کو کرنا ہے۔لوک سبھا میں جموں کشمیر تشکیل نو بل 2019 اور جموں و کشمیرسے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران سپریا سلے کے علاوہ کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری اور ڈی ایم کے کے ٹی آر بالونے بھی نیشنل کانفرنس لیڈر کے بارے میں جاننا چاہا۔غور طلب ہے کہ جموں وکشمیرسے دفعہ 370 ہٹانے کے معاملے پر لوک سبھا میں بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی بار بحث ہو چکی ہے۔اس سے پہلے راہل گاندھی نے جموں وکشمیرسے دفعہ 370 کی زیادہ تر دفعات ہٹانے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے مرکزی حکومت کے اقدامات کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایگزیکٹو کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے سے ملک کی قومی سلامتی پر شدید اثر پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو یکطرفہ طریقے سے تقسیم کرکے، منتخب نمائندوں کو قید کرکے اور آئین کی خلاف ورزی کر کے قومی ترقی آگے نہیں بڑھنے والی ہے۔ یہ ملک عوام سے بنا ہے۔اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے کہا کہ لیڈروں کو نامعلوم مقامات پر حراست میں رکھا گیا ہے۔یہ غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے۔یہ ایک بیوقوفی والا قدم ہے کیونکہ حکومت ہند کی طرف سے جو خالی پن پیدا کردیا گیا ہے اس سے دہشت گردوں کو موقع ملے گا۔رہنماؤں کو فوری طور پر چھوڑا جانا چاہئے۔راہل نے کہاکہ ایگزیکٹو کی طاقتوں کے غلط استعمال سے ہماری قومی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔حکومت نے منگل کو جموں و کشمیر سے دفعہ 370 کی زیادہ تر دفعات کو ہٹانے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں تقسیم کرنے سے متعلق قرارداد اور بل لوک سبھا میں بحث اور منتقل کرنے کے لئے پیش کیا۔اس سے پہلے راجیہ سبھا نے پیر کو آرٹیکل 370 کی زیادہ تر دفعات کو ختم کر کے جموں کشمیر اور لداخ کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے سے متعلق حکومت کے دو قراردادیں اور بل کی منظوری دے دی۔دوسری طرف دو سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔